دنیا ایک بار پھر غیر یقینی سیاسی اور عسکری حالات کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں جاری تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن، معیشت اور سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں وقتی کمی ضرور آئی ہے، تاہم خطے میں خطرات ابھی مکمل طور پر ٹلے نہیں۔ دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں، مغربی کنارے میں مکانات کی مسماری، روس۔یوکرین جنگ، سوڈان کی خانہ جنگی اور دیگر عالمی بحران بدستور جاری ہیں۔
امریکہ اور ایران: جنگ ٹلی، خطرہ برقرار
امریکی ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے فوجی مشیروں کی سفارش پر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر مزید حملے فی الحال مؤخر کر دیے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی فوجی قیادت نے خبردار کیا تھا کہ نئی جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ فضائی دفاعی نظام، خصوصاً پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر پر بھی شدید دباؤ ڈالے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوری جنگ کا خطرہ کم ہوا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے اور کسی بھی نئی کارروائی سے کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
حوثیوں کا سعودی عرب کو سخت پیغام
یمن کی انصار اللہ (حوثی) تحریک نے واضح کیا ہے کہ اگر سعودی عرب امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شریک ہوا تو اسے براہِ راست جواب دیا جائے گا۔ حوثی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش کا مقابلہ کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرۂ احمر اور خلیجی خطے میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایران اور یوکرین کے درمیان نئے الزامات
ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین نے بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، جس میں ایک ملاح ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔ تہران نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
دوسری جانب یوکرین مسلسل ایران پر روس کو ڈرون اور دیگر فوجی سازوسامان فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔ مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مزید فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ امدادی اداروں کے مطابق غزہ میں خوراک، ادویات، صاف پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت برقرار ہے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا شہری آبادی کے تحفظ اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر چکی ہیں، تاہم زمینی صورتحال میں ابھی تک کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔
غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی تیاری
اطلاعات کے مطابق غزہ کی سرحد پر کرم ابو سالم (کرم شالوم) کے قریب ایک نیا فوجی اڈہ تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں مستقبل میں ایک کثیر القومی بین الاقوامی فورس کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے حتمی منصوبہ سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غزہ کے بعد کے انتظامی ڈھانچے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
مغربی کنارے میں گھروں کی مسماری
اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں متعدد فلسطینی گھروں اور دیگر عمارتوں کو منہدم کر دیا۔ فلسطینی حکام نے اس اقدام کو جبری بے دخلی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
روس۔یوکرین جنگ بدستور جاری
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں دونوں جانب سے فضائی حملے اور زمینی جھڑپیں جاری ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر فوجی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اس جنگ کے باعث یورپ میں توانائی، خوراک اور سلامتی کے مسائل بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
سوڈان میں انسانی بحران مزید سنگین ۔
سوڈان میں فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت برقرار ہے۔ مختلف شہروں میں جھڑپوں کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں جبکہ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ خوراک اور ادویات کی شدید کمی انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
شام پر پابندیاں نرم کرنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے بعض نمائندوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ شام پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی جائے تاکہ عام شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ شام کئی برسوں سے خانہ جنگی، معاشی بحران اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔
کانگو میں ایبولا کی نگرانی
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے مشتبہ کیسز سامنے آنے کے بعد صحت کے اداروں نے نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت مقامی حکام کے ساتھ مل کر بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
امریکہ میں فاؤچی کی ڈائری پر نئی تحقیقات
امریکی سینیٹ میں کووڈ-19 وبا کے دوران سابق طبی مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کے فیصلوں اور ان کی ذاتی ڈائری سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ بعض قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ وبا کے دوران اختیار کی گئی پالیسیوں اور فیصلوں کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے، جبکہ فاؤچی پہلے ہی متعدد الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔
عالمی منظرنامہ
بین الاقوامی حالات اس وقت انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل، غزہ اور یمن کی صورتحال، یورپ میں روس۔یوکرین جنگ، افریقہ میں سوڈان اور کانگو کے بحران، اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کو آئندہ مہینوں میں مزید سفارتی کوششوں، مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کی ضرورت ہوگی۔ عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک وسیع علاقائی یا عالمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔
Leave a Reply