نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
جو کہ i24 news
اسرائیلی ٹی وی چینل ہے اس کے عسکری امور کے تجزیہ کار یوسی یہوشع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی اور عسکری اداروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں پرشدید مایوسی پائی جا رہی ہے،

کیونکہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں منصوبہ بند بڑے حملے کو منسوخ کیے جانے سے امریکی اور اسرائیلی ڈیٹرنس (قوتِ بازدار) متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یوسی یہوشع کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی حکام سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اسرائیل کو کسی ممکنہ حملے میں شامل نہیں کرنا چاہتے تھے، تاہم ایران کی جانب سے اچانک کارروائی کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل نے اپنی عسکری تیاریوں کو مزید بڑھا دیا۔ اسی دوران اسرائیلی قیادت میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ آیا پیشگی حملہ کیا جائے یا امریکہ پر حملے کی صورت میں اس کے ساتھ کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیلی اداروں کا اندازہ ہے کہ ایران امریکہ کو ایک نئی محاذ آرائی میں گھسیٹنے کی کوشش کرے گا، جبکہ ان کے بقول ہر گزرتے دن کے ساتھ ایران کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یوسی یہوشع نے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک ایران کے حوالے سے یکساں مؤقف نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ پر ایران کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جبکہ بعض دیگر خلیجی ممالک کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی حمایت کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ثالثی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق قطری ثالثوں نے ایران کو ایک نئی تجویز پیش کی، جس پر ایرانی سفارت کاروں نے مثبت ردِعمل ظاہر کیا، جس سے تنازع کے سفارتی حل کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
یوسی یہوشع نے مزید دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ کے اعلان سے چند گھنٹے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔ رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد نے ایران کے حوالے سے امریکی حکمتِ عملی اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی۔
Leave a Reply