ایران۔امریکہ معاہدہ: سفارتی کامیابی یا خطے میں نئی طاقت کا ظہور؟

ایران۔امریکہ معاہدہ: سفارتی کامیابی یا خطے میں نئی طاقت کا ظہور؟

جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تو عالمی دارالحکومتوں میں اسے تاریخی کامیابی کے طور پر سراہا گیا۔ لیکن اس خوشی کے درمیان ایک چہرہ ایسا بھی ہے جس پر مایوسی صاف نظر آ رہی ہے اور وہ ہے صہیونی میڈیا۔ آئیے اس معاہدے کو ایران کی فتح کے طور پر تسلیم کرنے والے ممالک اور شخصیات کے بیانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ایران کو فاتح قرار دینے والے ممالک اور شخصیات
پاکستان وزیراعظم کا تاریخی اعلان
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اس معاہدے کو “امن اور سفارت کاری کو ایران کی فتح” قرار دیا۔ انہوں نے کہا:”یہ محض دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں، بلکہ جنگ کی تباہ کاریوں پر امن، مکالمے اور سفارت کاری کی فتح ہے۔ آج پاکستان کو جو عزت اور مقام ملا ہے، وہ صدیوں میں کسی قوم کو نہیں ملتا۔” وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (آرمی چیف) کو بھی خراج تحسین پیش کیا، کہ ان کی “غیر معمولی کوششوں” نے اس معاہدے کو ممکن بنایا۔ انہوں نے قطر، سعودی عرب، ترکی اور چین کے کردار کو بھی سراہا۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی سوشل میڈیا پر خیال کا اظہار کرتے ہوئے اسے پائیدار امن کی طرف ایک مثبت قدم” قرار دیا۔
سعودی عرب ایرانی شرائط پر معاہدہسعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ انہیں اس معاہدے سے “آبی گزرگاہوں کی آزادی بحال ہونے” کی امید ہے اور کہا کہ “کسی بھی پائیدار امن معاہدے کو خطے کے سلامتی مفادات کا احترام کرنا چاہیے” ۔ سعودی عرب کا یہ موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایران کی شرائط پر طے پانے والے معاہدے کو تسلیم کر رہا ہے۔
مصر بڑا موڑ”مصر کی وزارت خارجہ نے اس معاہدے کو انتہائی اہم پیش رفت” اور “علاقے میں امن کی طرف ایک بڑا موڑ” قرار دیا۔ قاہرہ کا یہ بیان فوجی تصادم کے بجائے سفارتی حل کی حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔
قطر اہم قدمقطر کی وزارت خارجہ نے اس مفاہمت کو “علاقائی امن اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم قدم” قرار دیتے ہوئے پاکستان سمیت ثالث ممالک کی کوششوں کو سراہا۔
ترکی پر امیدترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ “علاقے میں امن، استحکام اور سلامتی” کو فروغ دے گا۔
چین ثالثی کے کردار پر فخرچینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماو ننگ نے صحافیوں کو بتایا کہ چین نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ وانگ یی نے متعلقہ ممالک سے 26 ٹیلی فونک رابطے کیے جبکہ چین کا مشرق وسطیٰ کا ایلچی “مسلسل علاقے کا چکر لگاتا رہا” ۔
روس امریکی شکستروس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے تو کھل کر کہہ دیا کہ ایران کے خلاف “جارحانہ، غیر اشتعال انگیز حملے کے یک طرفہ نقطہ نظر کو کرشنگ ڈیفیٹ (بُری شکست)” ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے شروع سے کہا تھا کہ اس صورتحال کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
یورپی چاروں طرف سے حمایت فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اس معاہدے کی حمایت کی اور لبنان میں “پائیدار جنگ بندی، خودمختاری اور استحکام” پر زور دیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا۔
جاپان ایک بڑا قدمجاپان کی وزیراعظم سانائی تاکاایچی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کی حکومت اس معاہدے کو “تنازعات کو کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم” قرار دیتی ہے۔
یورپی کمیشن فوری نفاذ پر زوریورپی کمیشن کی صدر ارسلاف فان ڈیر لاین نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ترجیح “تمام فریقین کی طرف سے اس معاہدے پر فوری اور مکمل عملدرآمد” ہے۔ انہوں نے اسے عالمی معیشت کے لیے بھی ضروری قرار دیا۔
لبنان گلیوں میں جشنجنوبی لبنان کے عوام نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا۔ لبنانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ یہ جنگ بندی “اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے امریکی جانب پر عائد کردہ شرائط” پر حاصل ہوئی۔
یمن ایران کی فتحیمن کی انصاراللہ تحریک کے سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد نے اس معاہدے کو “اسلامی جمہوریہ ایران اور محور مزاحمت کی فتح” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی آزاد قوموں کو احساس ہو گیا ہے کہ “امریکہ کوئی ناقابلِ شکست طاقت نہیں” ۔ علی القحوم نے تو اسے “ایران کی فتح اور امریکہ کی شکست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “نیو مڈل ایسٹ” کا صیہونی منصوبہ ناکام ہو گیا۔
عراق استقامت کا نتیجہعراق میں علمائے اہل سنت کونسل کے سربراہ شیخ خالد الملا نے اس معاہدے کو “استقامت اور مزاحمت کا نتیجہ” قرار دیا۔ صہیونی میڈیا کا ردعمل مایوسی اور بے چینیجہاں پوری دنیا ایران کی فتح کا جشن منا رہی تھی، وہیں اسرائیلی میڈیا میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔عبرانی چینل 14 نے اس معاہدے کو ایرانیوں کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی” قرار دیا اور اعتراف کیا کہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہوگی، یعنی “اسرائیل کو فوراً لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں روکنا ہوں گی” ۔ یدیعوت احرونوت نے اپنی مرکزی خبر میں اسے “برا سودا (Bad Deal)” قرار دیا۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے کہا کہ “اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں” ۔ سابق وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمین نے اسے “اسرائیل کے نقطہ نظر سے ایک تباہی” قرار دیا، جبکہ حزب اختلاف کے رہنما یایر لاپید نے اسے “اسرائیل کی خارجہ اور سلامتی پالیسی کی سب سے چونکا دینے والی ناکامیوں میں سے ایک” کہا۔ چینل 14 نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ “ٹرمپ نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ اتنا بڑا اور افسوسناک واقعہ ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنا مشکل ہے۔”نتیجہیہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تہران کے حق میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ عرب ممالک، یورپی یونین، چین، روس، ترکی، پاکستان اور اقوام متحدہ سب نے اسے سراہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، یہ معاہدہ “ایرانی شرائط پر” طے پایا، جس میں لبنان سے فوری انخلا بھی شامل ہے۔ صہیونی میڈیا کی شدید مایوسی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل اب وہ بالادستی حاصل نہیں کر سکتا جو اسے کبھی حاصل تھی۔ یہ معاہدہ نہ صرف ایران کی سفارتی کامیابی ہے، بلکہ “محور مقاومت” کی استقامت کا بھی ثمر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.