ایران۔امریکہ مفاہمت کی راہ ہموار؟ مجوزہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

ایران۔امریکہ مفاہمت کی راہ ہموار؟ مجوزہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

نوائے نصرت نیوز ڈیسک(18 جون 2026ء ،2 محرم الحرام 1448ھ)

امریکی میڈیا ادارے اکسیوس نے ایران اور امریکہ کے درمیان مبینہ مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کا مکمل متن شائع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ متن ایک اعلیٰ امریکی حکومتی عہدیدار کی جانب سے امریکی صحافیوں کو بریفنگ کے دوران فراہم کیا گیا۔

اس مجوزہ یادداشتِ تفاہم میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، 60 روزہ جوہری مذاکرات اور ایران کی معاشی بحالی کے لیے بڑے مالیاتی منصوبوں سمیت متعدد اہم نکات شامل ہیں۔ تاہم اس دستاویز کی حتمی حیثیت اس وقت تک تسلیم نہیں کی جا سکتی جب تک متعلقہ حکام اس کی باضابطہ توثیق نہ کر دیں۔

مجوزہ معاہدے کے اہم نکات

1️⃣ مستقل جنگ بندی اور فوجی کارروائیوں کا خاتمہ

امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی موجودہ جنگ کے تمام محاذوں خصوصاً لبنان میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کریں گے۔ فریقین آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔

2️⃣ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام

دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور داخلی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کریں گے۔

3️⃣ 60 روزہ مذاکراتی عمل

امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہوں گے کہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات مکمل کیے جائیں، جبکہ باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔

4️⃣ بحری محاصرہ ختم کرنے کا منصوبہ

امریکہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد ایران کے خلاف بحری محاصرے اور دیگر رکاوٹوں کو ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا اور 30 روز کے اندر مکمل خاتمہ کرے گا۔ حتمی معاہدے کے بعد امریکی افواج بھی ایران کے اطراف سے واپس ہٹ جائیں گی۔

5️⃣ آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کی بحالی

ایران 60 روز کے لیے خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت کو یقینی بنائے گا۔ اس سلسلے میں عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مشاورت بھی کی جائے گی۔

6️⃣ 300 ارب ڈالر کا معاشی ترقیاتی منصوبہ

امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت دار ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر کام کریں گے۔ اس منصوبے کی تفصیلات 60 روز کے اندر طے کی جائیں گی۔

7️⃣ ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ

مجوزہ متن کے مطابق امریکہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) اور اپنی جانب سے عائد تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار لائحۂ عمل اختیار کرے گا۔

8️⃣ جوہری پروگرام سے متعلق شق

ایران ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہیں کرے گا۔ افزودہ یورینیم اور دیگر جوہری امور پر دونوں ممالک آئی اے ای اے کی نگرانی میں متفقہ طریقۂ کار کے تحت مذاکرات کریں گے۔

9️⃣ موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق

حتمی معاہدے تک ایران اپنے موجودہ جوہری پروگرام کی صورتحال برقرار رکھے گا جبکہ امریکہ نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اضافی فوجی تعیناتی سے گریز کرے گا۔

🔟 ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے سہولت

امریکہ ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور متعلقہ بینکاری، انشورنس اور شپنگ خدمات کے لیے ضروری اجازت نامے اور استثنیٰ جاری کرے گا تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت کے متن نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، تاہم اس کی باضابطہ حیثیت اور عملی نفاذ کا انحصار ایران اور امریکہ کی سرکاری توثیق اور آئندہ مذاکرات کے نتائج پر ہوگا۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ دستاویز مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور نئے سفارتی باب کے آغاز کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.