بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا انتباہ: آبنائے ہرمز میں رکاوٹ عالمی توانائی کے لیے بڑا خطرہ قرار

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا انتباہ: آبنائے ہرمز میں رکاوٹ عالمی توانائی کے لیے بڑا خطرہ قرار

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں مسلسل رکاوٹ عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، خصوصاً ایشیائی ممالک متاثر ہوں گے۔

نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (International Energy Agency – IEA) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل اور توانائی کی ترسیل میں مسلسل رکاوٹ عالمی توانائی کے نظام کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی معمول پر نہ آ سکی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کی بڑی معیشتیں، خصوصاً ایشیائی ممالک، شدید توانائی بحران کا سامنا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایشیا کے متعدد ممالک اپنی خام تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیج فارس سے درآمد کرتے ہیں، اور ان درآمدات کا اہم راستہ آبنائے ہرمز ہے۔ اگر اس گزرگاہ میں طویل عرصے تک رکاوٹ برقرار رہی تو توانائی کی فراہمی، صنعتی پیداوار، تجارتی سرگرمیوں اور عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے، سپلائی چین میں خلل اور اقتصادی بے یقینی کا باعث بن سکتی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ توانائی کی آزادانہ اور محفوظ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کریں تاکہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو خام تیل درآمد کرنے والے ممالک کو متبادل سپلائی ذرائع تلاش کرنے پڑ سکتے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، بحری سلامتی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.