سپاہ کا اعلامیہ نمبر 21: عمان میں امریکی ریڈارز کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کا دعویٰ

سپاہ کا اعلامیہ نمبر 21: عمان میں امریکی ریڈارز کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کا دعویٰ

سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے اعلامیہ نمبر 21 میں دعویٰ کیا ہے کہ “نصر 2” آپریشن کی تیرہویں لہر کے دوران عمان میں امریکی بحری اور فضائی نگرانی کے ریڈارز کو تباہ کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز پر اپنے بحری کنٹرول برقرار رکھنے کا بھی دعویٰ کیا۔

نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک

سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) نے اعلامیہ نمبر 21 جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ “نصر 2” آپریشن کی تیرہویں لہر کے دوران عمان میں موجود امریکی فوجی نگرانی کے اہم ریڈار نظاموں کو نشانہ بنایا گیا۔

اعلامیے کے مطابق کارروائی میں سلامہ چٹانوں (Salamah Rocks) پر نصب بحری نگرانی کے ریڈار اور عمان کے علاقے غنم میں واقع امریکی فضائی کنٹرول ریڈار کو میزائل حملوں کے ذریعے تباہ کیا گیا۔

سپاہ پاسداران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جاری فوجی آپریشن کا حصہ تھی، جس کا مقصد خطے میں امریکی فوجی نگرانی اور آپریشنل صلاحیت کو متاثر کرنا تھا۔

اعلامیے میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی بحریہ بدستور آبنائے ہرمز پر مکمل نگرانی اور کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے، اور خطے میں ہونے والی تمام بحری نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

سپاہ کے مطابق “نصر 2” آپریشن آئندہ بھی جاری رہے گا اور اگر ایران کی سلامتی یا قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو مزید جوابی کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔

اگر اس نوعیت کی عسکری کارروائیوں کی آزادانہ تصدیق ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی، بحری تجارت، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس خبر میں بیان کردہ تمام معلومات سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے سرکاری اعلامیے پر مبنی دعوے ہیں۔ خبر کی اشاعت تک عمان، امریکہ یا کسی آزاد بین الاقوامی ذریعے کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ ان کی آزادانہ توثیق بھی نہیں ہو سکی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.