رائٹرز: چین نے بحیرہ احمر میں جہازوں کے تحفظ کے لیے انصار اللہ سے مذاکرات شروع کر دیے

رائٹرز: چین نے بحیرہ احمر میں جہازوں کے تحفظ کے لیے انصار اللہ سے مذاکرات شروع کر دیے

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین نے بحیرہ احمر میں اپنے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے انصار اللہ یمن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

📰 نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز (Reuters) نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ چین نے بحیرہ احمر میں اپنے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے انصار اللہ یمن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف جاری کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے پیشِ نظر بیجنگ اپنے تجارتی مفادات اور شپنگ روٹس کے تحفظ کے لیے سفارتی رابطے کر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق، ان مذاکرات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ چینی تجارتی جہاز بحیرہ احمر سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں اور علاقائی کشیدگی کے باوجود سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ تاہم رپورٹ میں مذاکرات کی تفصیلات، شرائط یا کسی ممکنہ معاہدے کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بحیرہ احمر دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تجارت، شپنگ اخراجات اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین دنیا کی بڑی تجارتی معیشت ہونے کے باعث اپنی درآمدات اور برآمدات کے لیے محفوظ بحری راستوں کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، اسی لیے وہ سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے اور اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کی کوشش کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ خبر رائٹرز کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ خبر کی اشاعت تک چین یا انصار اللہ کی جانب سے ان مذاکرات کی مکمل تفصیلات یا نتائج سے متعلق باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا، جبکہ رپورٹ میں پیش کیے گئے دعوؤں کی مزید سرکاری وضاحت کا انتظار ہے۔

نوائے نصرت عالمی سیاست، بحیرہ احمر، یمن، چین اور بین الاقوامی تجارت سے متعلق اہم پیش رفت اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.