نیویارک ٹائمز: ٹرمپ ایران کے معاملے پر مزید سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں، فوجی آپشنز پر دوبارہ غور کی قیاس آرائیاں

نیویارک ٹائمز: ٹرمپ ایران کے معاملے پر مزید سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں، فوجی آپشنز پر دوبارہ غور کی قیاس آرائیاں

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے طاقت کے مظاہرے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی آپشنز پر دوبارہ غور کرنے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، اگرچہ وہ پہلے کشیدگی بڑھانے کے منصوبے مسترد کر چکے تھے۔

📰 نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک

نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ طاقت کے مظاہرے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے متعلق پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن میں ایک بار پھر ممکنہ فوجی آپشنز پر غور کیے جانے کی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی انتظامیہ کے اندر جاری مشاورت کے بارے میں یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے ایران سے متعلق امریکی حکمتِ عملی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ ماضی میں کشیدگی بڑھانے کے بعض منصوبوں کو مسترد کر چکے تھے، تاہم موجودہ حالات میں مختلف عسکری اور سفارتی آپشنز کا دوبارہ جائزہ لیے جانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی حالیہ سرگرمیوں اور طاقت کے مظاہرے نے امریکی پالیسی سازوں کی توجہ دوبارہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال کی جانب مبذول کر دی ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا امریکی حکومت نے کسی نئی فوجی کارروائی کی باضابطہ منظوری دی ہے یا نہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا براہِ راست اثر مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں سیاسی بیانات اور میڈیا رپورٹس سرمایہ کاروں، عالمی منڈیوں اور علاقائی اتحادیوں کی پالیسیوں پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کی ایران پالیسی میں سفارت کاری، اقتصادی پابندیاں اور عسکری دباؤ تینوں اہم عناصر سمجھے جاتے ہیں، تاہم کسی بھی نئی حکمتِ عملی کی تصدیق صرف سرکاری سطح پر کیے گئے اعلانات سے ہی ممکن ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ خبر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ خبر کی اشاعت تک وائٹ ہاؤس یا امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے فوجی آپشنز سے متعلق کوئی نیا باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا گیا تھا، جبکہ رپورٹ میں بیان کردہ نکات کو آزاد ذرائع سے بھی مکمل طور پر تصدیق نہیں کیا جا سکا۔

نوائے نصرت ایران، امریکہ، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست سے متعلق اہم پیش رفت اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.