امریکی حملوں کی مبینہ 13ویں رات، ایران کے متعدد شہروں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے

امریکی حملوں کی مبینہ 13ویں رات، ایران کے متعدد شہروں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے

رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ایران کے مختلف شہروں میں امریکی حملوں کے دعوے سامنے آئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ایران کے خلاف مبینہ امریکی حملوں کی تیرہویں رات تھی، تاہم تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

📰 نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران مختلف ذرائع سے یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ گزشتہ شب ایران کے متعدد شہروں کو امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ ایران کے خلاف مبینہ امریکی فوجی کارروائیوں کی تیرہویں مسلسل رات تھی، جس کے باعث خطے میں سیکیورٹی خدشات اور سفارتی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جن شہروں اور علاقوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا، ان میں بندرعباس، بندر جاسک، جزیرہ قشم، کنارک، اہواز، اندیمشک، امیدیہ، یزد، تفت، بروجرد، خرم آباد، خنداب، فیروزآباد اور نائین شامل ہیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں مختلف مقامات پر کی گئیں، تاہم خبر کی اشاعت تک ان حملوں کی نوعیت، نقصانات، اہداف یا جانی نقصان سے متعلق مکمل اور باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ اسی طرح ان تمام دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی تاحال نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو جاری کشیدگی کا دورانیہ ایران اور اسرائیل کے درمیان اس سے قبل ہونے والی 12 روزہ جنگ سے بھی آگے بڑھ چکا ہے، جو خطے کی مجموعی سلامتی اور عالمی سفارتی کوششوں کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خطے کے مختلف ممالک میں فوجی نقل و حرکت، فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیاں اور حساس تنصیبات کی حفاظت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری مسلسل کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئے فوجی تصادم کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ توانائی کی عالمی منڈی، بحری تجارت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس خبر میں بیان کردہ حملوں سے متعلق معلومات مختلف رپورٹس اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔ خبر کی اشاعت کے وقت ان تمام حملوں کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ حکام کی جانب سے مکمل سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ اس لیے صورتحال مسلسل تبدیل ہو سکتی ہے اور مزید معلومات سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔

نوائے نصرت اپنے قارئین کو مشرقِ وسطیٰ، عالمی سلامتی اور بین الاقوامی امور سے متعلق مستند اور بروقت معلومات فراہم کرتا رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published.