سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے بعض شرائط کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت دینے پر ابتدائی رضامندی ظاہر کی ہے۔ مجوزہ معاہدے میں امریکی کمپنیوں کی شمولیت اور نگرانی کے اختیارات بھی شامل ہیں۔
📰 نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بعض شرائط کے ساتھ سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودگی (Uranium Enrichment) کی اجازت دینے پر ابتدائی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ میں سول جوہری تعاون کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان زیرِ غور تیس سالہ جوہری تعاون کا معاہدہ دسیوں ارب ڈالر مالیت کا ہو سکتا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سول جوہری توانائی پروگرام کی تعمیر، ترقی اور تکنیکی معاونت میں اہم کردار ادا کریں گی۔
سی این این کے مطابق معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے بدلے واشنگٹن کو سعودی جوہری پروگرام کی نگرانی، معائنہ اور تکنیکی جائزے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، تاکہ پروگرام کے پرامن استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ خطے کی سیکیورٹی، توانائی کی ضروریات اور جوہری عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) سے متعلق بین الاقوامی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب کو محدود شرائط کے ساتھ یورینیم افزودگی کی اجازت دی جاتی ہے تو اس فیصلے کے مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی اور اسٹریٹجک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب کئی برسوں سے اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور مستقبل میں سول جوہری توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اس شعبے میں تعاون کے ساتھ ساتھ سخت نگرانی اور بین الاقوامی حفاظتی اصولوں پر بھی زور دیتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ خبر سی این این کی رپورٹ اور دعووں پر مبنی ہے۔ خبر کی اشاعت کے وقت نہ امریکی حکومت اور نہ ہی سعودی حکام کی جانب سے اس مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات یا حتمی منظوری سے متعلق باضابطہ اعلان سامنے آیا تھا۔
نوائے نصرت عالمی سیاست، جوہری توانائی، مشرقِ وسطیٰ، امریکہ، سعودی عرب اور بین الاقوامی امور سے متعلق اہم اور مستند خبریں بروقت اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply