اسٹاف رپورٹ | اسلام آباد
اسرائیل کے چینل 12 کی ایک رپورٹ کے مطابق، غزہ میں آئندہ مرحلے سے متعلق حماس اور ثالث ممالک کے درمیان طے پانے والے ایک ممکنہ معاہدے پر مبنی اعلامیہ جلد جاری کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں درج ذیل نکات شامل ہیں
غزہ میں مکمل اسلحہ برداری، جس میں پولیس کے ہتھیار، ہلکے اور بھاری اسلحہ، سرنگیں، اسلحہ کے ذخائر اور اسلحہ سازی کے مراکز شامل ہوں گے۔
اسرائیل کی جانب سے بیان کردہ “سرخ لکیر” سے دستبرداری صرف اس صورت میں ممکن ہوگی جب مکمل اسلحہ برداری کا عمل مکمل ہو جائے۔
اس عمل کے بعد غزہ میں اسلحہ کی نگرانی، ذخیرہ اور کنٹرول صرف ایک فلسطینی کمیٹی کے سپرد ہوگا۔حماس اپنی تمام عسکری سرگرمیاں، بشمول نئی بھرتیاں اور فوجی استعداد میں اضافہ، بند کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق، اس کے بدلے اسرائیل کی جانب سے ہدفی کارروائیاں یا تو روک دی جائیں گی، یا اسرائیل صرف ابھرتے ہوئے خطرات کی صورت میں کارروائی کا حق محفوظ رکھے گا۔
بتایا گیا ہے کہ اسلحہ جمع کرانے کا عمل آئندہ چند ہفتوں میں شروع ہو سکتا ہے، جبکہ ہتھیاروں کو ایسے محفوظ گوداموں میں رکھا جائے گا جن کی نگرانی کثیرالقومی فورسز کریں گی اور انہیں غیر فعال بنایا جائے گا۔
Leave a Reply