اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق معاہدہ، پابندیاں اور جنگ سمیت مختلف آپشنز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی، تاہم حتمی فیصلہ ٹرمپ ہی کریں گے۔
📰 نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے ABC کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران سے متعلق حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا۔
نیتن یاہو کے مطابق، ایران سے متعلق مختلف ممکنہ حکمتِ عملیوں پر دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا، جس میں معاہدہ، پابندیاں اور فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز زیرِ غور آئے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان تمام امکانات کے باوجود حتمی فیصلہ امریکی صدر کے اختیار میں ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران اس تاثر کی بھی نفی کی کہ اسرائیل نے امریکہ پر ایران کے خلاف فوری عسکری کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ ان کے بقول، دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے، لیکن امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسی سے متعلق فیصلے واشنگٹن خود کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ خطے میں جاری کشیدگی، ممکنہ سفارتی کوششیں اور سیکیورٹی خدشات بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی میں سفارت کاری، اقتصادی پابندیاں اور عسکری حکمتِ عملی تینوں اہم عناصر سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ان میں سے کسی بھی آپشن کا انتخاب خطے کی سلامتی اور عالمی سیاسی صورتحال پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
خبر کی اشاعت تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے نیتن یاہو کے ان بیانات پر کوئی الگ باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی تھی۔ اسی طرح ایران کی جانب سے بھی اس انٹرویو پر فوری ردِعمل جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ یہ خبر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ABC کو دیے گئے انٹرویو پر مبنی ہے۔ ایران سے متعلق آئندہ امریکی پالیسی یا کسی ممکنہ فیصلے کے بارے میں فی الحال کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔
نوائے نصرت مشرقِ وسطیٰ، ایران، امریکہ اور اسرائیل سے متعلق اہم عالمی پیش رفت اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply