برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے یمنی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ انصار اللہ باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس سے عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل متاثر ہو سکتی ہے۔
نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
برطانوی اخبار ٹیلی گراف (The Telegraph) نے یمن کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ انصار اللہ (حوثی تحریک) مبینہ طور پر آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ایسا اقدام کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی تجارت، بحری جہاز رانی اور بین الاقوامی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
ٹیلی گراف کے مطابق یمن سے حاصل ہونے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انصار اللہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس اہم بحری راستے سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ تاہم اخبار نے اپنی رپورٹ میں اس دعوے کے حق میں کوئی آزاد یا باضابطہ ثبوت پیش نہیں کیا۔
آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے اور یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بحری تجارت کا ایک اہم راستہ تصور کی جاتی ہے۔ اس گزرگاہ سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل، گیس اور تجارتی سامان دنیا کے مختلف حصوں تک منتقل کیا جاتا ہے۔
دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق اگر اس بحری راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی سطح پر جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس نرخ اور توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ خبر ٹیلی گراف کی رپورٹ اور یمنی ذرائع سے منسوب دعوؤں پر مبنی ہے۔ اس خبر کی اشاعت کے وقت انصار اللہ کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ دیگر آزاد ذرائع سے بھی اس رپورٹ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اس نوعیت کی رپورٹس کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران مختلف فریقین کی جانب سے متضاد اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔


Leave a Reply