وال اسٹریٹ جرنل نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے حالیہ حملے گزشتہ چند ہفتوں کی کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع جغرافیائی علاقے پر کیے گئے ہیں۔
📰 نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل (The Wall Street Journal) نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے حالیہ فوجی حملے گزشتہ چند ہفتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع جغرافیائی علاقے پر کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ تازہ کارروائیوں کا دائرہ کار پہلے کی نسبت زیادہ وسیع تھا، جس کے تحت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم رپورٹ میں ان حملوں کے تمام اہداف، نقصانات یا ان کے مکمل نتائج کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی عسکری حکمتِ عملی میں تبدیلی یا توسیع آ سکتی ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔ اس سلسلے میں امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ تفصیلی بیان بھی متوقع ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر فوجی کارروائیوں کا دائرہ واقعی وسیع کیا گیا ہے تو اس کے علاقائی سلامتی، سفارتی تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی عسکری پیش رفت کا مکمل جائزہ سرکاری معلومات اور آزاد ذرائع کی تصدیق کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث امریکہ، ایران اور دیگر علاقائی فریقوں کی سرگرمیوں پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔ ایسے حالات میں فوجی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس عالمی منڈیوں، توانائی کے شعبے اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
خبر کی اشاعت تک امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس رپورٹ کی مکمل تفصیلات یا وال اسٹریٹ جرنل کے دعوے پر الگ سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ یہ خبر وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اور ایک امریکی عہدیدار کے بیان پر مبنی ہے۔ اس میں بیان کیے گئے دعوؤں کی مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
نوائے نصرت مشرقِ وسطیٰ، امریکہ، ایران اور عالمی سلامتی سے متعلق اہم پیش رفت اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply