روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات میں یوکرین، روس-امریکہ سفارتی تعلقات، الاسکا تجاویز اور خلیج فارس کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
📰 نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
روس اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے سلسلے میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، یوکرین جنگ، سفارتی روابط کی بحالی اور خلیج فارس کی تازہ صورتحال سمیت متعدد اہم علاقائی و بین الاقوامی امور پر گفتگو کی گئی۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق، سرگئی لاوروف نے ملاقات کے دوران امریکہ کی جانب سے الاسکا میں پیش کی گئی تجاویز کے لیے روس کے عزم اور وابستگی کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روس سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے، تاہم اس عمل میں اپنے قومی مفادات کو بھی مدنظر رکھے گا۔
ملاقات کے دوران لاوروف نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین (کیف) کو مزید اسلحہ فراہم کرنا روس کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ روس کا مؤقف ہے کہ مغربی ممالک کی مسلسل فوجی امداد جنگ کے خاتمے کے بجائے کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے روس اور امریکہ کے سفارتی مشنز کی معمول کے مطابق بحالی، سفارتی عملے کی سرگرمیوں اور دونوں ممالک کے سفارت خانوں کے کام کو بہتر بنانے کے طریقۂ کار پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں، جس کے باعث سفارتی عملہ اور قونصلر خدمات بھی متاثر ہوئی تھیں۔
اس کے علاوہ، لاوروف اور روبیو نے خلیج فارس کی تازہ صورتحال، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی سلامتی سے متعلق مختلف معاملات پر بھی گفتگو کی۔ اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے اس گفتگو کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال بھی ملاقات کا ایک اہم موضوع رہی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے عالمی سیاست، یورپی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی استحکام کے تناظر میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
نوائے نصرت عالمی سفارت کاری، روس، امریکہ، یوکرین، مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی امور سے متعلق مستند، متوازن اور بروقت خبریں اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply