پینٹاگون کے مطابق ایران کے حملوں کے بعد اردن میں امریکی فوجی اڈے سے لاپتا ہونے والا امریکی فوجی غالباً ہلاک ہو چکا ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع نے بتایا کہ تلاشی کارروائیاں جاری رہیں، تاہم ابتدائی شواہد موت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے حملوں کے بعد اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر لاپتا ہونے والا ایک امریکی فوجی غالباً ہلاک ہو چکا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق متعلقہ فوجی ایران سے منسوب حملوں کے بعد لاپتا ہو گیا تھا، جس کے بعد اس کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں مسلسل تلاش کے باوجود وہ فوجی تاحال نہیں مل سکا۔
محکمۂ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی شواہد اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اب یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ فوجی حملوں کے دوران جان کی بازی ہار چکا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق تمام قانونی اور فوجی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔
پینٹاگون نے مزید کہا کہ لاپتا فوجی کی تلاش اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے کے تمام پہلوؤں اور حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔ امریکی حکام نے فوجی کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلسل صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال غیر معمولی بنی ہوئی ہے۔ اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے خطے میں امریکی عسکری سرگرمیوں کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں، اور حالیہ حملوں کے بعد ان اڈوں کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق اگر لاپتا فوجی کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی افواج کے جانی نقصانات میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پینٹاگون نے اپنے بیان میں “غالباً ہلاک” ہونے کا لفظ استعمال کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حتمی تصدیق کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ مزید تحقیقات اور سرکاری معلومات کے بعد صورتحال میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
نوائے نصرت مشرقِ وسطیٰ، امریکہ، ایران، عالمی سلامتی اور بین الاقوامی دفاعی امور سے متعلق اہم خبریں مستند اور بروقت انداز میں اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply