یوکرینی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی روس میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں بجلی اور لاجسٹک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، متعدد شہروں میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ کریمیا میں بجلی کی بندش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
یوکرینی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی روس میں روس کی لاجسٹک اور بجلی کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر آگ لگنے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے بعد جنوبی روس کے مختلف شہروں میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ کریمیا میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے اور بعض علاقوں میں بجلی کی بندش کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یوکرینی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد روس کے لاجسٹک نیٹ ورک اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق نووینومیسک (Nevinnomyssk) میں ایک لاجسٹک مرکز، جو مبینہ طور پر اسی کمپنی سے وابستہ ہے، بھی حملے کی زد میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق وہاں شدید آگ لگ گئی، جس کے باعث عمارت اور سامان کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
تاحال روسی حکام کی جانب سے تمام دعوؤں کی مکمل تصدیق یا نقصان کی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ جنگی حالات میں سامنے آنے والی اطلاعات آزاد ذرائع سے فوری طور پر مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہوتیں، اس لیے مختلف فریقین کے بیانات میں فرق ممکن ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں روس اور یوکرین کے درمیان ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے توانائی، لاجسٹک اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے دعوے کرتے رہے ہیں، جس کے باعث جنگ کا دائرہ سرحدی علاقوں سے آگے بڑھ کر اندرونی تنصیبات تک پہنچ چکا ہے۔
توانائی کے شعبے پر حملوں کے باعث نہ صرف مقامی بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ صنعتی سرگرمیوں، نقل و حمل اور سپلائی چین پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ خبر یوکرینی ذرائع ابلاغ کے دعوؤں پر مبنی ہے۔ اس خبر کی اشاعت کے وقت روسی حکام کی جانب سے تمام تفصیلات کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، لہٰذا مزید سرکاری بیانات اور آزاد ذرائع سے معلومات موصول ہونے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
نوائے نصرت روس، یوکرین، عالمی سلامتی، توانائی اور بین الاقوامی تنازعات سے متعلق اہم خبریں مستند، متوازن اور بروقت انداز میں اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply