اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2026-27 جاری ہوتے ہی عوام نے کیلکولیٹر بند اور ماتھا پکڑ لیا۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ رقم قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص کی گئی ہے، جس پر ماہرین نے تبصرہ کیا کہ “ہم ترقی بعد میں کریں گے، پہلے پرانے وعدے پورے کریں گے!”
ذرائع کے مطابق دفاع، ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی پروگراموں کو بھی حصہ ملا، تاہم تعلیم، صحت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے حصے کو دیکھ کر کئی طلبہ نے پوچھا: “کیا یہ رقم پوری قوم کے لیے ہے یا صرف ایک کالج کے سالانہ فنڈ کے لیے؟”
ایک شہری نے بجٹ پڑھنے کے بعد کہا: “لگتا ہے ملک اب قرض اتارنے کے لیے چل رہا ہے، اور عوام قرض چڑھانے کے لیے!”
ادھر سوشل میڈیا پر صارفین نے بجٹ کا نیا نعرہ تجویز کیا:
📌 “پڑھو کم، قرض دو زیادہ!”
📌 “سائنس بعد میں، سود پہلے!”
📌 “ترقی کا سفر جاری ہے، بس منزل بینک کے باہر ہے!”
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض طنز ہے، اصل بجٹ کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ عوام کی زندگی میں کتنی بہتری آتی ہے۔
😄 نوٹ: یہ ایک مزاحیہ و طنزیہ خبر ہے، حقیقی خبر یا معاشی تجزیہ نہیں۔

Leave a Reply