رپورٹ(سیدہ نصرت نقوی)پاکستان میں معاشی عدم مساوات اور علاقائی ترقی کے فرق پر مبنی تازہ جائزے کے مطابق ملک کے مختلف اضلاع میں آمدنی اور غربت کی شرح میں نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد سب سے زیادہ خوشحال ضلع قرار پایا ہے، جہاں اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی 4 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد ہے، جبکہ راولپنڈی، سیالکوٹ، لاہور، گجرات اور جہلم بھی امیر ترین اضلاع میں شامل ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان کے آواران، شیرانی، کوہلو اور ڈیرہ بگٹی جیسے اضلاع ملک کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں اوسط گھریلو آمدنی چند ہزار روپے تک محدود ہے اور غربت کی شرح 70 فیصد کے قریب ہے۔
رپورٹ کے مطابق شہری اور صنعتی مراکز میں تعلیم، انفراسٹرکچر، کاروباری سرگرمیوں، صنعتی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی نے معاشی خوشحالی کو فروغ دیا ہے، جبکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ان سہولیات کی کمی غربت کی بڑی وجہ ہے۔ پنجاب کو مجموعی طور پر ملک کا سب سے خوشحال صوبہ قرار دیا گیا ہے، جہاں غربت کی شرح نسبتاً کم اور آمدنی کی سطح دیگر صوبوں سے بہتر ہے۔ اس کے برعکس بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں آمدنی کے اس بڑے فرق کو کم کرنے کے لیے تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں، آن لائن روزگار، مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال، ٹیکنالوجی تک رسائی اور کاروباری مواقع میں اضافہ ناگزیر ہے۔ رپورٹ کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ ملک کی زیادہ تر دولت چند بڑے شہری اور صنعتی مراکز میں مرتکز ہے، جبکہ بلوچستان، سندھ کے پسماندہ علاقوں اور بعض قبائلی اضلاع میں غربت اب بھی ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کی متوازن ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہر علاقے کے افراد کو یکساں تعلیمی، معاشی اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ علاقائی اور معاشی عدم مساوات میں کمی لائی جا سکے۔

Leave a Reply